کیا جاتا ہے جو کبھی غم جہاں کا حساب

Poet: Ahmad Faisal Ayaz By: Ahmad Faisal Ayaz, Hafizabad

جب بھی ہوتی ہے بس آہ و فغاں ہوتی ہے
دل میں جو کچھ کہنے کی حسرت جواں ہوتی ہے

بھری بزم میں تیری رسوائی گوارہ نہیں ہم کو
کہتے تو نہیں مگر کہنے کو زباںہوتی ہے

بستر مرض پر میرے اوڑھا ہے مسکراہٹ کا نقاب
ان کی افسردگی ان کے آنے سے بیاں ہوتی ہے

وقت رخصت دل وجگر کا ٹکڑا ساتھ بھیجو
ان کی چیز ہے بہلنے کا ساماں ہوتی ہے

ہو نہ ہو لوگ تو سمجھیں گے اسے جادو کا اثر
اک تصویر سی تیرے پہلو سے عیاں ہوتی ہے

یوں کسی گور شکستہ کو ٹھوکروں سے نہ مٹاؤ
دیکھا جاتا ہےکہ پتھر میں بھی جاں ہوتی ہے

کیا جاتا ہے جو کبھی غم جہاں کا حساب
بات چلتی ہے تو عیاز سے رواں ہوتی ہے

Rate it:
Views: 508
12 Jan, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL