کیا خوب ہوتا
Poet: Shazia Hafeez By: Shazia Hafeez, Attockلمحہ لمحہ تیرے وجود میں بسر ہوتی
خوب ہوتا جو میں تیری روح کا محور ہوتی
تیری ان جھیل سی آنکھوں میں میرا گھر ہوتا
تیری آنکھیں جو دیکھتیں میں وہ منظر ہوتی
کبھی پت جھڑ کبھی رم جھم کبھی ساون
کبھی بادل کبھی نچھپی کبھی امبر ہوتی
تیری امید کا حاصل تیری کوشش کا صلہ
میں تیرے عشق تیرے صبر کا ثمر ہوتی
کیا خوب ہوتا جو میں تیری روح کا محور ہوتی
لمحہ لمحہ تیرے وجود میں بسر ہوتی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






