کیا خُوشی کیا غمی بھی بھول گیا
Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوالکیا خُوشی کیا غمی بھی بھول گیا
اب تو وہ من چلی بھی بھول گیا
اِس قدر خُوب تھا وہ خُوش قامت
دیکھتے شاعری بھی بھول گیا
جی لگاتے لگاتے اُس سے میں
آخرش دل لگی بھی بھول گیا
مدّتوں بے سبب اداس رہے
وجہِ افسردگی بھی بھول گیا
دیکھ کر اُس کی چشم ِپُرنم کو
آستیں کی نمی بھی بھول گیا
سرِبالیں میں دیکھتے ہی اُسے
موت کی جانکنی بھی بھول گیا
بستیوں اب مرا یقین آیا
جب میں آوارگی بھی بھول گیا
اب مری یاد کھینچ لائی ہے؟
جب تمہاری کمی بھی بھول گیا
ناز اٹھاتے میں زندگانی کے
دوستی دشمنی بھی بھول گیا
جانیے کیا سحر کیا اُس نے
اپنی شعلہ زنی بھی بھول گیا
دمِ رخصت لہو نہ رویا اور
مرتے دم تک ہنسی بھی بھول گیا
گاہے گاہے میں طنز کرتے وقت
اُس کی بیچارگی بھی بھول گیا
کوچۂ یار کا کوئی پاگل
ایسا سُدھرا گلی بھی بھول گیا
More Love / Romantic Poetry
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے روٹھ جانے کی ہی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
Bina
من میں تمھیں بسا کے من میں تمھیں بسا کے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
Bina






