کیا سے کیا

Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, Quetta

درد کی لکھتا رہا ہے یہ کہانی کیا سے کیا
دن دِکھائے فرد کو آنکھوں کا پانی کیا سے کیا

سب کے سب برباد کر لینے میں حصّہ دار تھے
ترش لہجہ، ٹیڑھی چالیں، نوجوانی، کیا سے کیا

مَیں کہاں احسان ان کے بھول سکتا ہوں کبھی
کیا کرم فرمائیاں تھیں، مہربانی کیا سے کیا

میں نے اپنے عہدِ برنائی میں کی ہیں محنتیں
برف، قلفی، تِل کے لڈّو، شتربانی کیا سے کیا

دیس کو کس موڑ پر چھوڑا ہے لا کر غاصبو!
اور دعوے کر رہے ہو منہ زبانی کیا سے کیا

عاشقی کی "عین" سے بھی ہم ابھی نا آشنا
کر گئے ہیں سسّیؔ پنّوںؔ، ہیرؔ، ہانیؔ کیا سے کیا

ہم کو دعویٰ تھا بڑا آہن مزاجی کا کبھی
کر گئی جادو مگر یہ رُت سہانی کیا سے کیا

ہم نے طوفانوں میں کشتی کو سمندر میں رکھا
وقت نے دیکھی ہماری بادبانی کیا سے کیا

ہم حقیقت آشنا ہوتے تو ہیں حسرت رشیدؔ
پر دکھائے ہم کو دنیا آنی جانی کیا سے کیا
 

Rate it:
Views: 263
15 May, 2024
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL