کیا میں جی سکوں گا پھر ۔۔۔۔۔!
Poet: Muzammal Mukhtar Azam By: Muzammal Mukhtar Azam, Lahoreتمہیں میں اتنا بتلا دوں
کہ میری ذات میں
تیری اکائی
رقص کرتی ہے
میرے سینے میں قیدی دل
تمہارے نام کا ہر پل
یہ پاگل ورد کرتا ہے
میری سانسوں کی
تیری یاد کے دم سے
روانی ہے
میرے ہاتھوں پہ تیرے ہاتھ کا
جو لمس باقی ہے
وہ میرے پاس تیری
اک نشانی ہے
میرا یہ دل تو بس
تیری ہنسی کے سنگ
دھڑکتا ہے
میرا چہرہ
تیری خوشیوں کی خاطر ہی
دمکتا ہے
میری خوشیاں، میرا جیون
میرے سپنے، میرے اپنے
ان سب سے دیکھو
تم وابستہ ہو
تو پھر یہ تم ہی بتلاؤ
تمہارے کہنے پہ
تمہیں گر اپنی سوچوں سے
میں منہا کر بھی دیتا ہوں
تو کیا میں
جی سکوں گا پھر
تو کیا میں
جی سکوں گا پھر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






