کیا نہ کون جتن تجھ کو بھول جانے کا
Poet: Fazlul Hasan By: F.H.SIDDIQUI, Lucknow کیا نہ کون جتن تجھ کو بھول جانے کا
بھلا نہ پایا مگر تل ترے دہانے کا
کسی نے کھیل کے توڑا کسی نے ٹھکرایا
ہمارا دل بھی کھلونا ہے آٹھ آنے کا
تڑپ کے خانئہ صیاد پر گری بجلی
لگا نہ پائی پتہ میرے آشیانے کا
مسل کے پھول وہ کانٹوں کا بوسہ لیتے ہیں
عجب طریقہ نکالا ہے دل جلا نے کا
نہ لایا حرف شکایت کبھی زباں پہ حسن
ہمیشہ ہنس کے سہا ہر ستم زمانے کا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






