کیا وہ دن تھے جو تیرے ساتھ تھے ہم

Poet: Gul Ghani Afridi By: Gul Ghani Afridi, peshawar

کیا وہ دن تھے جو تیرے ساتھ تھے ہم
ساتھ رہتے تیرے دن رات تھے ہم

اب اداسی میں یہ حالت ورنہ
کبھی لفظوں کے کائنات تھے ہم

پوچھتی تھی وہ جنہیں لوگوں سے
ان سوالوں کے جوابات تھے ہم

تب تلک پاس تھے اپنے سارے
جب تلک ان کے مفادات تھے ہم

دھوپ نے ہم کو جلا کر رکھا
حسرتوں کے ہرے باغات تھے ہم

تھی مباحث میں مہارت لیکن
تیری محفل میں جمادات تھے ہم

ہم نے خطرات مٹائے سب کے
سب کی نظروں میں تو خطرات تھے ہم

سامنے اس کے بات کیوں بگڑی
گفتگو میں بھی تو محتاط تھے ہم

عشق میں اب ہے جنوں کی حالت
غنی پہلے بھلے بقراط تھے ہم

Rate it:
Views: 701
24 Oct, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL