کیا پتہ
Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, Quettaتوڑ کر دِل مِرا بے سبب، جا چُھپے وہ کہاں کیا پتہ
کل رفِیقو جہاں میں مِری، ہو نہ ہو داستاں کیا پتہ
کہہ رہا ہے کوئی جا رہا ہے کِدھر لوٹ آ، لوٹ آ
ہو چلا ہُوں بھلا کِس لئے اِس قدر بد گُماں، کیا پتہ
جِس قدر ہو سکا پیار کو اوڑھنا اور بِچھونا کِیا
پر ہمیشہ خسارے میں تھی کِس لِیئے یہ دُکاں، کیا پتہ
میں نے محبُوب کے در سے کب ایک لمحہ بھی غفلت رکھی
چُھوٹا جاتا ہے ہاتھوں سے کیوں دوستو آستاں، کیا پتہ
خُوش گُمانی میں ہُوں مَیں کہ اُس کی محبّت ہے میرے لِیے
عین مُمکن ہے "ہاں" میں "نہِیں" اور "نہِیں" میں ہو "ہاں" کیا پتہ
اِس لِیئے میں سفر سے گُریزاں رہا، خوف لاحق تھا یہ
ساتھ تو چل پڑے چھوڑ جائے کوئی، کب، کہاں، کیا پتہ
دعویٰ عقل و خِرد کا تو کرتے پِھریں پر حقِیقت ہے یہ
جانتے ہی نہِیں سُود کیا ہے یہاں؟ کیا زیاں؟ کیا پتہ؟
آج حق میں تو ہے حوصلہ بھی بڑھائے ہُوئے ہے مگر
کل عدالت لگے اور یہی اپنا بدلے بیاں، کیا پتہ
تُم کو حسرتؔ کِسی دِن پلٹ جانا ہے یاد ہے یا نہِیں
اور کِتنے دِنوں تک میسّر ہے یہ گُلستاں، کیا پتہ
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






