کیا کر رہی تھی آخر بیان میری خاموشی ُاسے

Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabia

بے درد زمانے میں
انصاف ڈھونڈتی رہی

کافر تھے شہر کے لوگ سارے
بے وجہ ُان میں ایمان ڈھونڈتی رہی

پلکوں کی حد توڑ کر گرا تھا اک اشک
ُاس اشک کی خاطر میں قصہ تمام ڈھونڈتی رہی

بہت تھی حسرتیں میری بھی ، پر جب
ُاسے دیکھا تو اپنے منہ میں ہی زبان ڈھونڈتی رہی

بے جان سہی مگر کچھ تو تھا ُان لفظوں میں
جن کے اندر میں اپنی ذات ڈھونڈتی رہی

جسے دیکھنے کی مدت سے حسرت تھی
ُاسے سامنے پایا تو پھر نقاب ڈھونڈتی رہی

کیا کر رہی تھی آخر بیان میری خاموشی ُاسے
جسے چھپانے کی خاطر میں اک بات ڈھونڈتی رہی

Rate it:
Views: 491
06 Jun, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL