کیا کہا بھول گئے ہیں اس کو

Poet: Tariq Butt By: Gul Bose, Karachi

کیا کہا؟ بھول گئے ہیں اس کو؟
ہم بھی کیا بھول گئے ہیں اس کو؟

ہاں ِ وہ اک داغ پرانا دل کا
مٹ گیا! بھول گئے ہیں اُس کو

یار٬ غم خوار، وہ ساتھی اپنا
دل کہ تھا۔ بھول گئے ہیں اُس کو

وہ؟ جو سینے میں جلا کرتا تھا
جل بجھا! بھول گئے ہیں اُس کو

شبِ تار ایک دیا اور ہوا
جو ہوا، بھول گئے ہیں اُس کو

وہ گیا ہے تو رہا کیا باقی
جو رہا، بھول گئے ہیں اُس کو

پوچھنے والوں نے پوچھا اکثر
کہہ دیا، بھول گئے ہیں اُس کو

جا بجا لکھتے تھے اک نام جو ہم
بارہا بھول گئے ہیں اُس کو

یاد کرنے پہ ہمیں یاد آیا
یاد تھا، بھول گئے ہیں اُس کو

Rate it:
Views: 574
17 Feb, 2009
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL