کیا کہیں کیسے کٹی کل شب تنہائی تھی
Poet: Fazlul Hasan By: F.H.Siddiqui, Lucknow(India) کیا کہیں کیسے کٹی کل شب تنہائی تھی
بس طبیعت تری تصویر سے بہلائی تھی
تو نے جب پہلے پہل گھر میں قدم رکھا تھا
تیرے جلووں سے دمک اٹھی یہ انگنائی تھی
مثل پروانہ تری آگ میں جل جائیں گے
تیرے دیوانوں نے یہ کیسی قسم کھائی تھی
ذکر چل نکلا تھا اک دوسرے ہرجائی کا
باتوں باتوں میں تری بات نکل آئی تھی
دیر تک گاڑے رہے در پہ نگاہیں ہم بھی
بزم میں آپ کے آنے کی خبر آئی تھی
دھڑکنیں اب بھی بڑھا دیتی ہیں تانیں اس کی
کتنی دل سوز کسی روز یہ شہنائی تھی
رہنے والے نہ حسن کوئی تھے حقدار بہت
مٹی کے مول گئی کوٹھی جو آ بائی تھی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






