کیا ہوا زیست خوشی پا نہ سکی قسمت سے

Poet: dr.zahid sheikh By: dr.zahid sheikh, lahore pakistan

کیا ہوا زیست خوشی پا نہ سکی قسمت سے
یہ جوانی رہی محروم ہر اک راحت سے

آہ بھرتے ہیں تو تذلیل ہوا کرتی ہے
لب پہ آہوں بھرے اب گیٹ نہ آنے پائیں

غم ذدہ لوگوں سے کرتا ہے بھلا کون وفا
چھوڑ کے رنج و الم شوخ ترانے گائیں

وہ نہیں ملتا جو ہم چاہیں بڑی حسرت سے
کیا ہوا زیست خوشی پا نہ سکی قسمت سے

مصلحت کے بھی تقاضے ہیں مرے پیش نظر
غم چھپا کر مجھے اوروں کے لیے جینا ہے

موت آ جائے تو مٹ جائیں سبھی درد مرے
اپنے گلشن کے لیے زندہ مگر رہنا ہے

میں نے سب پھولوں کو پالا ہے بڑی محنت سے
کیا ہوا زیست خوشی پا نہ سکی قسمت سے
یہ جوانی رہی محروم ہر اک راحت سے

Rate it:
Views: 660
01 Nov, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL