کیا ہے
Poet: By: Peerzada Arshad Ali Kulzum, harrisbburg pa usaدل پر قابو پانے کا ارادہ کیا ہے
نہ ہو خوش کہاں وعدہ کیا ہے
تجھ درویش کا کیا دنیا سے بھلا
تم نے اک ذات کا لبادہ کیا ہے
ہماری بھی نظر کا کمال دیکھو
ایسی پڑی فقیر کو شہزادہ کیا ہے
ملال ہے تمہیں کیا بوجھ اٹھا رکھا ہے
کیا تم نے بھی پیار کچھ زیادہ کیا ہے
دل دکھایا جب شروع کی بات اس نے
اور کہتا ہے بیاں اس نے سادہ کیا
ہوا خوشبو کو اڑ لیے جا رہی تھی
ہم نے بھی خوب اس کا ارادہ کیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






