کیسا ہے
Poet: رشید حسرتؔ By: رشید حسرتؔ, Quettaعوام اب پوچھتے ہیں بولو استحصال کیسا ہے
طمانچوں سے حکومت کا ہؤا رخ لال کیسا ہے
اسے ہم نے سمندر پار بھیجا تو کمانے کو
پرائے دیس میں جانے ہمارا لعل کیسا ہے؟
ابل پڑتی ہیں آنکھیں دیکھ کر بِل گیس، بجلی کے
غریبوں کو مٹانے کا بچھایا جال کیسا ہے
ابھی مہنگائی کی چکّی کے پاٹوں میں پڑے ہیں ہم
بتائے کون آگے دن، مہینہ، سال کیسا ہے
کیا کرتا تھا تو تنقید حاکم کی جفاؤں پر
سو تیرے جسم سے کھینچی گئی ہے کھال- کیسا ہے؟
مجھے چوری پہ گاؤں سے وڈیرے نے نکالا تھا
بہت دن بعد لوٹا ہوں تو استقبال کیسا ہے
وطن میں ظلم و استبداد رائج ہے مرے مولا
ترے ہوتے لٹی ہیں عزّتیں، لجپال کیسا ہے
ہٹھائیں بن کے اب تک گاؤں میں ہی سڑ رہے ہوتے
نکل کر آ گیا جو شہر وہ خوش حال کیسا ہے
عجب سورج نکلنے کا ہے منظر گاؤں میں دیکھو
کہو مشرق سے تانبے کا ابھرتا تھال کیسا ہے
فقیروں سے ہمیں دل سے عقیدت ہے لڑکپن سے
رہا کرتا تھا جو اس گاؤں میں ابدال کیسا ہے
توجہ حسن والوں کی طرف مبذول رکھتے ہیں
کوئی پوچھے مجھے بھی حال کیا، احوال کیسا ہے؟؟
مزے ہم وصل کے ہجراں کی راتوں میں لیا کرتے
فراق اب سہہ نہیں سکتے ہیں استدلال کیسا ہے
کہا تھا سبزی والے سے ترازو تو برابر رکھ
ذرا سی بات پر حسرتؔ ہؤا جنجال کیسا ہے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






