کیسے سجدہ کروں میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Poet: Mohib Khan Mohib By: Mohib, Quettaحیرت سے آنکھ نہ جپھک سکا بت مدتوں میں
یہ سجدہ کیوں نہ حیران کرے بت کدوں میں
جب سے پڑی ہے ان کے شکنیں جبیں پہ نظر
کھو گیا ھوں بس یونہی ھاتھ کی لکیروں میں
کیسے سجدہ کروں میں رب کے حضور
وہ بت کی مانند سما گئی ہے نظروں میں
طبیعت پھر مچل پڑی نظر ان کی آجانے سے
آجاتی ہے چاند سے طغیانی دریاوں میں
پوچھا کیا ہے بزم میں محب کے واسطے
کھو گئے فرشتے تقدیر کی کتابوں میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






