کیسے یہ بتادوں
Poet: Muhammad Imran Khan - Emron Mano By: Muhammad Imran Khan, Peshawarکیسے یہ بتادوں
تو جو نہیں ہے تو
کروٹیں بدلتے
صبح میری ہوتی ہے
دل پژمردہ، آنکھیں روتی ہیں
کیسے یہ بتادوں
کہ تیرے بغیر کیسے جیتا ہوں
غم کھاتا ہوں، درد پیتا ہوں
کیسے یہ بتادوں
جو کہ دیا تھا تم سے
وہ کیسے کہ دیا تھا
کیسے یہ بتادوں
تیری آنکھوں سے پینے کی جن کو عادت تھی
وہ اشک پی رہے ہیں، کانٹوں پہ جی رہے ہیں
کیسے یہ بتادوں
جو تیری زُلفوں کے سائے تلے زندہ تھے
وہ اب صحرا میں بھٹکتے ہیں
کیسے یہ بتادوں
کہ تُجھے یاد کرتے کرتے
تُجھے بُھول گیا ہوں میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






