کیلنڈر غزل ۔۔ نئے سال
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیانئے سال کو مرحبا کہتے کہتے
میں رو دی دسمبر کو جا کہتے کہتے
یہ تنہا کٹے نہ مری جنوری اب
وہ لوٹ آئے جانِ وفا کہتے کہتے
مجھے اس نے ملنا تھا پھر فروری میں
مگر ہو گیا ہے خفا کہتے کہتے
مرے حال پر جانے کیوں رو دیا ہے
وہ جانِ جگر ، دل ربا ،کہتے کہتے
مئی جون کی اس نے چھیڑی ہیں باتیں
ابھی سے ستمبر کو آ کہتے کہتے
نومبر کو بھولا ہوا ہے کبھی سے
دسمبر کا ہی مدعا کہتے کہتے
یہ وشمہ تری آگ میں جل رہی ہے
فقط شعر و نغمہ ، دعا کہتے کہتے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






