کیوں؟
Poet: Syed Fahad Altaf Ahmad By: Syed Fahad Altaf Ahmad, Kahror Pacaa Multanلے کے جان میری میری جان کہتے ہیں
جانے پڑے یوں بے جان کیوں ہو ؟
دے کے الم مجھ کو کہتے ہیں
جانے اتنے افسردہ کیوں ہو ؟
کر کے قتل ارمان مرے سارے کہتے ہیں
جانے یوں ڈوبے یاس میں کیوں ہو؟
لے کے خوشیاں مری ساری کہتے ہیں
جانے اتنے غمزدہ کیوں ہپو ؟
لے کے دھڑکن مری کہتے ہیں
جانے اتنے بے دل و بے دھڑک کیوں ہو ؟
لے کے اک جھلک کے بدلے متاع میرا سب
کہتے ہیں جانے یہں تنگ دست کیوں ہو ؟
کر کے بے حال مجھے یوں کہتے ہیں
جانے اتنے زبوں حال کیوں ہو ؟
دے کے داغ مفارقت مجھ کو
کہتے ہیں جانے اتنے تنہا کیوں ہو ؟
لے کے سب چین قلب مراکہتے ہیں
جانے اتنے بے چین کیوں ہو ؟
کر کے غارت ایماں میرا کہتے ہیں
جانے اتنے بے دیں و بے ایماں کیوں ہو ؟
چھوڑ کے مجھ کو دشت ویراں میں
کہتے ہیں جانے ساکن بیاباں کیوں ہو ؟
کر کے ختم مرا شعور ،میری عقل کہتے ہیں
جانے اتنے نادان کیوں ہو ؟
کر کے گھائل ،نشتر زہر آلود سے
کہتے ہیں ، جانے اتنے لہو لہاں کیو ہو ؟
کر کے ثبت مہر میرے لبوں پے
کہتے ہیں، جانے اتنے خاموش،بے زباں کیوں ہو ؟
کر کے زائل میری دید و بینائی ،
کہتے ہیں،جانے یوں بے دید و بے بینا کیوں ہو ؟
ٹھکرا ک پیام عشق میرا کہتے ہی
جانے اتنے بے مروت کیوں ہو ؟
عرض کیا میں نے بھی حرف آ خر یوں احمد
میرے ہر سوال کا جواب تم ہو حساب تم ہو
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






