کیوں روٹھے ہو
Poet: Subhani By: Subhani,روٹھے کو کس طرح مناؤں بھلا
چھیڑ چھیڑ زلفیں کیا ستاؤں بھلا
ان نازک ہونٹوں کی کلی پر اپنی
چوم کر انگلی کیا لگاؤں بھلا
تیرے رخسار پر ٹپکتے پانی کی بوند
لب لگا کر اسے کیا لے جاؤں بھلا
یہ سخت نظر پیغام امتحاں دے مجھے
پر ذوق اشک کو کیسے سمجھاؤں بھلا
اس نرم مزاج فطرت سے ترک تعلق
یہ سوچ کر کیوں نہ گھبراؤں بھلا
رات کی چادر اٹھائے آفتاب مگر
اس چاندی کو کیسے سمجھاؤں بھلا
کوئی تو مجھے سمجھا دے اے سبحانی
روٹھے کو کس طرح مناؤں بھلا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







