کیوں عشق کی ابتدا میں ڈگمگائے بہت
Poet: Naveed Ahmed Shakir By: Naveed Shakir, Faisalabadکیوں عشق کی ابتدا میں ڈگمگائے بہت
یہ سوچ کر آج ہم بھی مسکرائے بہت
در چھوڑ کر جو ترا ہم جائیں بھی تو کہاں
اپنے تو لگتے ہیں ہم کو بھی پرائے بہت
مغرور سے ہو گئے ہیں کیوں وہی لوگ پھر
اے زندگی ناز جن کے بھی اٹھائے بہت
تیرے بچھڑ جانے کا غم یا خوشی تھی کوئی
دل نے ہمارے سبھی رستے سجائے بہت
معلوم سب کو ہو گی جو بات بھی اب ہو گی
اب کیوں بہانے نئے کوئی بنائے بہت
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






