کیوں میری طرح ہو رہا بیتاب آج کل
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیادیکھے تھے تیرے اور ہی کچھ خواب آج کل
آنکھوں میں تونے بھر دیا سیلاب آج کل
رہتی ہیں دن کے ماتھے پہ سورچ کی شوخیاں
اور رات کو ستائے ہے مہتاب آج کل
مجھ کو غموں کی بھیڑ نے رستے میں لے لیا
کھلتا نہیں ہے زندگی کا باب آج کل
پہلے ہی عاشقی کے کنارے سے دور ہوں
ہونے کو ناؤ ہے مری غرقاب آج کل
پہلے تو اس نے پیار سے دیکھا کبھی نہ تھا
کیوں میری طرح ہو رہا بیتاب آج کل
یہ رات ہے تو یاد کی پرچھائیاں بھی ہیں
آنکھوں میں تیرے پیار کا ہے خواب آج کل
رکھا ہے مجھ کو وشمہ جی ایسے نصیب نے
جیسے ہو کوئی ماہیءِ بے آب آج کل
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






