بچھڑ کے مجھ سے تجھے بھی زوال ہو کچھ تو

Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachi

بچھڑ کے مجھ سے تجھے بھی زوال ہو کچھ تو
مری طرح ترا جینا محال ہو کچھ تو

مری طرح تو نہ روۓ وہ درد سے لیکن
میں چاہتا ہوں اُسے بھی ملال ہو کچھ تو

کسی کےعشق میں مَیں نےبھی جاں گنوائی ہے
وفا کے شہر میں میری مثال ہو کچھ تو

یہ سچ ہے عشق نہیں ذات و شکل کا مہتاج
مگر دکھاوے کو حسن و جمال ہو کچھ تو

تمام عمر اگر ہجر میں گزارنی ہے
ضروری ہے کہ مری جاں وصال ہو کچھ تو

فقیر آۓ ہیں مدت کے بعد میخانے
کچھ اور ہو نہ ہو لیکن دھمال ہو کچھ تو

میں چاہتا ہوں غریبی میں نام پیدا کروں
زمانہ چاہے مرے پاس مال ہو کچھ تو

مرے خدا مرے قاتل کو حادثوں سے بچا
کہ میری مرگ میں اُس کا کمال ہو کچھ تو

عدُو نہتا ہو بــــــــــــــــاقرؔ تو وار کیا کرنا
کرو یوں وار کہ پاس اُس کے ڈھال ہو کچھ تو
 

Rate it:
Views: 593
21 Mar, 2017
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL