کیوں نہیں
Poet: By: Sadaf Munir, lahoreالہی مجھے تو بتا کیوں نہیں ہے
میری زندگی میں وفا کیوں نہیں ہے
نہیں جس کے دل میں میری کوئی چا ہت
مجھے وہ صنم بھولتا کیوں نہیں ہے
مجھے دشمنوں سے محبت ہوئی کیوں
مجھے دوستوں سے گلہ کیوں نہیں ہے
سفر میں ہی جیوں گزاروں گی کب تک
مجھے منزلوں کا پتا کیوں نہیں ہے
میں جس سے زمانے کا ہر رنگ دیکھوں
میری اآنکھ مین وہ ضیا کیوں نہیں
مجھے زندگی سے محبت اگر ہے
تو جینے کا بھی حوصلہ کیوں نہیں ہے
تو احساس جس کے لیے جی رہی ہے
وہ تیرے لیے سوچتا کیوں نہیں ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






