کیوں چھوڑ کے جانا ہے فقط اتنا بتا دو

Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلا

یہ بات الگ آپ جو انجان رہے ہو
کچھ روز مرے دل کے تو مہمان رہے ہو

کیوں چھوڑ کے جانا ہے فقط اتنا بتا دو
کیوں پہلے مرے نام کی پہچان رہے ہو

آجاؤ تمہیں اپنی نگاہوں میں سجا لوں
تم حسنِ تمنا پہ تو قربان رہے ہو

بن آپ کے کچھ بھی نہیں دیوان ہمارے
ہر شعر میں بس آپ ہی گردان رہے ہو

ہونٹوں کو محبت کے تبسم سے سجا دو
پہلے بھی صنم آپ ہی مسکاں رہے ہو

کیا نکلا ہے اپنوں سے بغاوت کا نتیجہ
دنیا سے سدا دست و گریبان رہے ہو

واقف ہے مگر پھر بھی بتا دو اسے وشمہ
اس دل کی تمنا تمیں ارمان رہے ہو

Rate it:
Views: 692
17 Nov, 2020
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL