کیوں کر تجدیدِ نِکاح کا نہیں امکاں، نانا؟
Poet: Sarwar Farhan Sarwar By: Sarwar Farhan Sarwar, Karachiکیوں کر تجدیدِ نِکاح کا نہیں امکاں، نانا؟
کب تک نانی سے نِبھاؤ گے یوں پیماں، نانا؟
بچن، تم سے ہے بڑا، پھر بھی ہے ہیرو آتا
عمر میں اُس کی ہیں ہیروئینز ابھی بچیاں، نانا
کتنے بڈھوں کی ٹھَرَک دیکھ کے یاد آتا ہے
“ٹرائی“ کرنے میں ہے آخر کوئی نُقصاں، نانا؟
تم بھی کیا سادہ ہو، لوگوں کی سُن لیتے ہو
خِضاب کیا کر نہیں سکتا تمہیں جواں، نانا؟
مُوڈ بن جائے تو لکھنا اپنے نواسے کو
میری پہچان کی ہیں کئی اِک بُڈھیاں، نانا
آخری وقت میں ہوتی ہے ضرورت سب کو
کب تک بازار کی کھاؤ گے روٹیاں، نانا؟
دوسری شادی کوئی جُرم نہیں ہے ہرگز
کب تک اس دِل میں نہاں رکھو گے ارماں، نانا؟
سدا مغرب کی ہوس، کیونکر جواں رہتی ہے؟
کیوں ہے مشرق بھلا بے طرح پشیماں، نانا؟
تھام لو ہاتھ کسی بیوہ یا مطلقہ کا
تاکہ بس جائے تمہارا بھی آشیاں، نانا
پیرانہ سالی میں اولاد ہوئی بے پرواہ
کون بنتا ہے بھلا درد کا درماں، نانا
شعر کی آڑ میں سرور یہی سمجھاتا ہے
اب تو لے آؤ خدارا نانی اماں، نانا
(نوٹ :: ہم احمد فراز صاحب کو ہماری اس تخلیق کی (ہمارے تخیل میں آنے سے پیشتر ہی) پیروڈی لکھنے پہ معاف کرتے ہیں۔ قارئین بھی نوٹ فرما لیں)
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






