کیہ دساں میں کیہڑی گلوں جتی بازی ہار گیا
Poet: Dr.RASHEED ANWAR By: MUBASHAR ISLAM , LAHOREکیہ دساں میں کیہڑی گلوں جتی بازی ہار گیا
جیہنوں منصف پایا اوہو مینوں ہار گیا
لہو رنگا اوہ اتھرو جیہڑا پلکیں زوریں ڈگیا سی
ڈگدا ڈگدا کئی سجناں دے پیار دا بھار اتار گیا
نہر کنارے میلا لگیا لوکیں پچھدے پھردے نیں
ڈبن والا کاغذ دی اک بیڑی کاہنوں تار گیا
تیری اکھ سہارا دتا میریاں ٹٹیاں آساں نوں
تیرا اک دلاسا چناں میرا بت سار گیا
کندھاں ات ہنیرے دیاں ڈھا کے وی میں قید رہیا
چن چڑھیا تے میرے گر دے چانن کندھ اسار گیا
اک اٹی توں پیار دا سودا ایتھوں لبھنا ایں
جدھر ٹر گئے حسن دے بیوپاری اودھر اوہ بازار گیا
ایہو اک وڈیائی میری میں بوہا کھڑکایا نہیں
وچ خیالیں بھاوی اوہدے بوہے لکھا وار گیا
کوئی موت بہانہ یارو میری موت نوں ملیانہ
مینوں اپنے اندروں اٹھدا ہویا ہوکا مار گیا
پرلے پار اڈیکن والے بزدل کہہ کے ٹر گئے نیں
ارلے کنڈھے آکھن لوکیں انور پرلے پار گیا۔
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






