گئی اٹھکیلیاں کرتی مجھے کہہ کر سحر “جھوٹا“
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillیہاں ہر اک ادا جھوٹی،یہاں ہر اک سحر جھوٹا
متاع خشت کے طالب ترا ذوق نظر جھوٹآ
فقط صدق عمل ساقی ہمیشہ ساتھ رہتا ہے
جو ٹوٹے سانس تو چھوٹے سبھی رخت سفر جھوٹا
سفر سے تنگ آ کے لو چکوریں چیخ ہی اٹھیں
خلا جھوٹی،فضا جھوٹی،کرن جھوٹی،قمر جھوٹا
گرے پروانے کے لاشے سے اک آواز آتی ہے
یہ ساری روشنی جھوٹی،لگن سچی،شرر جھوٹا
کسی آتی خزاں کے خوف سے صحن گلستاں میں
ہراساں تتلیوں نے لکھا ہے ہر پھول پر “ جھوٹا“
جگایا علم کو کہہ کر کسی دیوانے عاشق نے
محبت سے ہے جو خالی تو تیرا ہر ہنر جھوٹا
ہوا سے کل صبح کہہ دی جو دل کی داستاں میں نے
گئی اٹھکیلیاں کرتی مجھے کہہ کر سحر “جھوٹا“
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






