گئی دل فدا گلاب پر دیکھنے چلے آئے
Poet: By: Peerzada Arshad Ali Kulzum, harrisburg pa usaگئی دل فدا گلاب پر دیکھنے چلے آئے
کب سے محبتوں کے عذاب سر دیکھنے چلے آئے
عجب سے وہ دن جو رہتے تھے ہچکچائے سے
دے دینا ان کو حساب اگر دیکھنے چلے آئے
عجب سی خوشبو مہک اٹھی اجڑے گلستاں سے پھر
گیا خیال تم میں لیے بیتاب دل ادھر دیکھنے چلے آئے
دوبارا ان کو دیکھنا گناہ مانتے ہیں ہم
اسی لیے ہم بھی اک ہی جناب نظر دیکھنے چلے آئے
خواہش تھی قلزم میں بھی ان کے پاؤں میں چھالے دیکھوں
زمانے سے پہلے یہی خواب جگر دیکھنے چلے آئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







