گجرا والا بولا تھا جب، صاحب جوڑی شاد رہے
Poet: ارسلان حُسین شاہ By: Arsalan Hussain, Karachiسگنل پر وہ لمحیں مجھ کو اب تک یونہی یاد رہے
گجرا والا بولا تھا جب، صاحب جوڑی شاد رہے
کنگن ونگن لے لو کچھ باجی کی کلائی سوُنی ہے
موتیا، بیلا سب کچھ ہے اور خشبو انکی بھینی ہے
آپس کی یہ بات ہے کہ ان کو پسند بھی آئے گا
مرجھایا ہوا انکا چہرا پل میں ہی کِھل جائے گا
دیکھو صاحب گجرا بھی ہے جو انکے بالوں کو بھائے گا
آپ کی گاڑی میں تو صاحب اور مہکتا جائے گا
وہ تو مشرق لڑکی ٹھری خود تو کچھ نہ بولینگی
لیکن خوش ہوجائینگی جب وہ یہ آپ کے ہاتھ سے پہنیگی
دیکھو صاحب سنگ دل بننا ویسے اچھی بات نہیں
انکی خوشی کے آگے تو ان گجروں کی اوقات نہیں
میں چلتا ہوں اب، شاید یہ لمحیں آپ کو یاد رہے
دعا ہے میری رب سے کہ آپ کی جوڑی شاد رہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






