گر جانا تھا تو بتا کے جاتے
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, Gujranwalaگر جانا تھا تو بتا کے جاتے
نیند سے مجھے تم جگا کے جاتے
کیے تھے تم نے ہزاروں وعدے
کوئی ایک تو تم نبا کے جاتے
دیکھ لیتا میں تجھ کو آخری بار
جلوہِ حُسن تم مجھے دکھا کے جاتے
کیوں غیروں کے دیا میری بربادی کا ذمہ
مجھے اپنے ہاتھوں سے مار مکا کے جاتے
میں نہ کرتا پاڑ کوئی حد تجھے روکنے کی
گر باہوں کے دائرے میں آ کے جاتے
دردِ ہجر سہہ لیتے مسکراتے ہوئے
لوٹ آنے کی مرہم لگا کے جاتے
پھرتا ہوں حسرتوں کا جنازہ لیئے
تم خود ہی اِنھیں دفناکے جاتے
کس شہر میں جا بسے خدا جانے
کوئی ہتا پتہ تو بتا کے جاتے
نہال کومل باہوں میں اُٹھا کے رخصت کرتا
پاگل جاتے جاتے مجھے آزما کے جااتے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






