گر میں نہ ہوا
Poet: By: Hukhan, karachiدیکھنا زندگی تجھے چھو کے گزر جائے گی
گر میں نہ ہوا
سوچ لو تیری آنکھ بھر آئے گی
گر میں نہ ہوا
سچ ہے اک پل بھی نہ جی پاؤ گی
گر میں نہ ہوا
پگلی کیسے مسکرا پاؤ گی
گر میں نہ ہوا
ہاں سوچو کس سے لڑ پاؤ گی
گر میں نہ ہوا
ہاں سوچو ذرا کس کو پیار سے بلاؤ گی
گر میں نہ ہوا
کیسے کسی سے کہو گی ادھر آؤ ذرا
گر میں نہ ہوا
نہ کوئی شک کیسے لمحے گزار پاؤ گی
گر میں نہ ہوا
کسے اپنے قصے سناؤ گی
گر میں نہ ہوا
ہو سکتا ہے لقمہِ اجل بن جاؤں
پھر کس کو ستاؤ گی
گر میں نہ ہوا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






