گرد آلود کتابوں میں نظر آؤں گا
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiگرد آلود کتابوں میں نظر آؤں گا
ایک دن میں بھی نصابوں میں نظر آؤں گا
مجھ سے ملنے کو بھی ترسیں گے یہ احباب مرے
جب میں مٹی کے حجابوں میں نظر آؤں گا
میری محفل میں کمی سب کو ہی تڑپاۓ گی
میں سوالوں نہ جوابوں میں نظر آؤں گا
ایک دن مجھ سے ہی منسوب وفائیں ہوں گی
میں محبت کی کتابوں میں نظر آؤں گا
عین ممکن ہے اگر ہجر نے تڑپایا تو
ڈوبتا میں بھی شرابوں میں نظر آؤں گا
بس یہی کہہ کے تو اس نے مرا دل توڑ دیا
کل سے میں تجھ کو نقابوں میں نظر آؤں گا
ارے پاگل مجھے کھنڈرات میں کیوں ڈھونڈتے ہو
میں جو ہوں پھول ، گلابوں میں نظر آؤں گا
میں نے سوچا بھی نہ تھا یار ترے ہجر میں، میں
ایک دن اتنے عذابوں میں نظر آؤں گا
جب بھی تم دل سے پکارو گے کہاں ہو باقرؔ
تجھ کو اے یار میں خوابوں میں نظر آؤں گا.
.
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






