محسن نقوی صاحب کو خراج عقیدت
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiہُوا جو قتل تو یاد آیا نام محسنؔ کا
ہے معتبر سرِ مقتل مقام محسنؔ کا
کوئ بھی شخص بچانے نہ آیا محسنؔ کو
گلی میں ہوتا رہا قتلِ عام محسنؔ کا
یہ شرفِ قتل تو لے گئ بندوق کی گولی
سناں تو کرتی رہی احترام محسنؔ کا
ترس رہی ہیں وہی سُرخ راہیں مقتل کی
کہ جن پہ ہوتا ہے بس ذِکرِ عام محسنؔ کا
مِلا ہے کیا تُمھیں اے قاتلو قتل کر کے
لبوں پہ آج بھی زِندہ ہے نام محسنؔ کا
یزیدیت کا زمانہ نہ قتل کر دے تُجھے
ابھی بھی وقت ہے دَر تُو نہ تھام محسنؔ کا
ہے میرے پیر نے قاتل کو دی دعا ہر دم
یہی رُلاۓ گا قاتل کو کام محسنؔ کا
کوئ بھی آنچ نہ آۓ گی نام پر اُس کے
رہے گا زِندہ یہ جب تک غلام محسنؔ کا
سُنائ نوکِ سناں پر جو نظم کل میں نے
زمانہ رویا سمجھ کر کلام محسنؔ کا
میں اپنے پیر کو باقرؔ بُھلا نہیں سکتا
کروں گا ذِکر یُونہی صبح و شام محسنؔ کا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






