محسن نقوی صاحب کو خراج عقیدت

Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachi

ہُوا جو قتل تو یاد آیا نام محسنؔ کا
ہے معتبر سرِ مقتل مقام محسنؔ کا

کوئ بھی شخص بچانے نہ آیا محسنؔ کو
گلی میں ہوتا رہا قتلِ عام محسنؔ کا

یہ شرفِ قتل تو لے گئ بندوق کی گولی
سناں تو کرتی رہی احترام محسنؔ کا

ترس رہی ہیں وہی سُرخ راہیں مقتل کی
کہ جن پہ ہوتا ہے بس ذِکرِ عام محسنؔ کا

مِلا ہے کیا تُمھیں اے قاتلو قتل کر کے
لبوں پہ آج بھی زِندہ ہے نام محسنؔ کا

یزیدیت کا زمانہ نہ قتل کر دے تُجھے
ابھی بھی وقت ہے دَر تُو نہ تھام محسنؔ کا

ہے میرے پیر نے قاتل کو دی دعا ہر دم
یہی رُلاۓ گا قاتل کو کام محسنؔ کا

کوئ بھی آنچ نہ آۓ گی نام پر اُس کے
رہے گا زِندہ یہ جب تک غلام محسنؔ کا

سُنائ نوکِ سناں پر جو نظم کل میں نے
زمانہ رویا سمجھ کر کلام محسنؔ کا

میں اپنے پیر کو باقرؔ بُھلا نہیں سکتا
کروں گا ذِکر یُونہی صبح و شام محسنؔ کا

Rate it:
Views: 928
13 May, 2016
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL