گردش سخن در و بام کا امکان ہو تم
Poet: Taj Rasul Tahir By: taj rasul tahir, Islamabadگردش سخن در و بام کا امکان ہو تم
دل پہ لکھی ہوئ تحریر کا عنوان ہو تم
زندگی جیسے گزرتی ہے یہی لگتا ہے
میری رگ رگ میں رواں خون رگ جان ہو تم
دل دھڑکتا ہے تو دھڑکن کو سنا کرتا ہوں
جانتا ہوں کہ پس ساز دل و جان ہو تم
دیکھتا ہوں, ہے تحیر میں زمانہ سارا
پیکر حسن ہو یا حشر کا سامان ہو تم
مدتوں ترسی نگاہوں کو قرار آتا ہے
روح کر دیتی ہے سرشار وہ مسکان ہو تم
اک جھلک پانےکو پھرتا ہے تیرے کوچے میں
جس کی تقدیر ہو تم پانے کا ارمان ہو تم
حسن زیبا تو امانت ہے کسی کی طاہر
تم امیں ہو تو فقط اس کے نگہبان ہو تم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






