گردشِ ایام نے کچھ ایسا ستم ڈھایا

Poet: UA By: UA, Lahore

 گردشِ ایام نے کچھ ایسا ستم ڈھایا
کچھ ہم نے سیکھنے کا مادہ ہی کم پایا
جس سانچے میں ڈھلنا تھا نہیں ڈھل پائے
جو کچھ حاصل کرنا تھا نہیں کر پائے
جس قدر وقت نے بدلا ہم بدل گئے
وقت کے ساتھ ساتھ ہم بھی بدل گئے
تقدیر نے جس سانچے میں ڈھالا ڈھل گئے
دل کو جس کی چاہت تھی وہ نہیں پایا
دل کو جس سے راحت تھی اسے گنوایا
کوئی تدبیر کارگر نہ رہی
کوئی تقریر پر اثر نہ رہی
کیا بتائیں زندگی میں کیا کھویا کیا پایا
جو چاہا وہ نہ پایا جو نہ چاہا وہ پایا
ہر خوشی کا حصہ امید سے کم پایا
کیسا کیسا ہم نے نصیب سے غم پایا
مسکراہٹ کے بدلے آنکھوں میں نم آیا
جب خوشیوں کے لمحوں میں یاد تیرا غم آیا
گردشِ ایام نے کچھ ایسا ستم ڈھایا
کچھ ہم نے سیکھنے کا مادہ ہی کم پایا
 

Rate it:
Views: 958
16 Jan, 2015
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL