گرچہِ بچھڑی بھی تو مِلا کرے گی
Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوالگرچہِ بچھڑی بھی تو مِلا کرے گی
یعنی اُمید کو سزا کرے گی
میں ہوں اپنے قفس کا قیدی اور
وہ جب بھی آئے گی تو رِہا کرے گی
اپنی شدّت برائے نام ہی تھی
کب گماں تھا وہ انتہا کرے گی
وقتِ عہدِ وفا نہیں سوچا
خود فریبی بھی اِقتضا کرے گی
مجھ سے ملنے کو روز ہی سرِ شام
سوئی آنکھوں میں جا رَہا کرے گی
پھر وہی خامشی سے تکراریں
جب کوئی بات نا بنا کرے گی
جیسے حالات بھی رہیں درپیش
کسی صُورت نہیں نبھا کرے گی
یہ بھی پوچھا کہ نا ملے ہم تم
کس پہ الزام وہ دھرا کرے گی
جی لگاتے نہیں خیال آیا
کوچے کوچے خبر اُڑا کرے گی
گو کہ تدبیر سے وہ خائف تھی
یہ کیا کم تھا بہت دُعا کرے گی
بیچ ہم نے جو ذات ڈالی تھی
کب خبر تھی وہی جدا کرے گی
جب بچھڑ کر نہیں خلش دل میں
کیسے مل کر خُوشی ہُوا کرے گی
راستوں میں بکھیر کر ہم کو
منزلوں پر مغالطہ کرے گی
وہ رقیبوں کی بزمِ عشرت میں
اک تماشے سے ابتدا کرے گی
جان دونوں کہیں پہ بھاگ چلیں
ایسی خوش فہمی کر لیا کرے گی
میں سمجھتے سمجھ سکا نہ جنیدؔ
ہرزہ گوئی بجا لگا کرے گی
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے






