گزرے تمام لمحے دھڑکن کی یاد آئی
Poet: zaigham jaffery By: zaigham jaffery, Daskaگزرے تمام لمحے دھڑکن کی یاد آئی
دیکھے جو پھر کھلونے بچپن کی یاد آئی
بلبل کبھی جو گلشن پاوں میں روندتا تھا
قیدِ قفس میں اس کو گلشن کی یاد آئی
میں تارے چن رہا تھا اپنے لیے جہاں پر
چندا کو دیکھتے ہی دلہن کی یاد آئی
میرے جو پاوں اس نے دیوانگی میں دیکھے
بوڑھے سے آدمی کو جوبن کی یاد آئی
آنکھوں سے خوں بہا اور ہم رات بھر نہ سوئے
کچھ اس ادا سے ہم کو ساجن کی یاد آئی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






