گستاخ کہہ رہا ہے اپنے دل کا فسانہ
Poet: شاعر ساگر حیدر عباسی By: SAGAR HAIDER ABBASI , 1گستاخ کہہ رہا ہے اپنے دل کا فسانہ
تیرے حسن کی سادگی میں کھو گیا ہے دل دیوانہ
زوقِ نظر ہے مجھ میں بس اتنی سی التجا ہے
ہو وقت کبھی میسر ملنے کو ہم سے آنا
تو شہنشاہِ زمانہ میں مضطرب فقیر
ممکن ہو سکے اگر تو نظرَ کرم ہم پہ فرمانہ
تم رہتے ہو میرے دل میں بس اتنا ہی کافی ہے
کبھی فرصت ملے جو تجھ کو میرے خوابوں میں آجانا
کرنا نہ اندیشہ تم زمانے کی بے رُخی کا اے زارا
ذوقِ نظر میں میری تم پارسا ہو جاناں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







