گل سرسبز ہو تم اپنانے کو جی چاہتا ہے
Poet: Badar Naseer By: Badar Naseer, lalamusaگل سر سبز ہو تم اپنا نے کو جی چا ہتا ہے
مہک چمبیلی ہو تم سونگھنے کو جی چا ہتا ہے
ساون بھی آئے بادل بھی برسے پھو ل بھی مہکے
وقت سحر گرے شبنم جو بن جانے کو جی چاہتا ہے
نرم ٹہنی پے جو کلی تھی اب وہ پھول بن گیا ہے
گل عذار چھوئے جو ہوا بن جانے کو جی چا ہتا ہے
پھول کی پتیاں گرے جو وہ آنسوئے پھو ل ہیں
آنسوئے پھول بن کر بہہ جا نے کو جی چا ہتا ہے
گل بانگ سن کر روح بے تا ب ہو گی بدر
بلبل کو قلب اسیر ی بنانے کو جی چا ہتا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






