گمان
Poet: T By: T-Malik, Lahoreیہ گمان تھا شاید کسی کو محبت ہے ہم سے
شاید کوئی بےقرار الجھتا ہے رات بھر
شاید کہنے سے ابھی ڈرتا ہے کہ ساتھ چل
ملنے کا جنوں، سوچوں کی پری سب ساتھ چلی پر
کئی ہاتھوں میں بٹا تھا دلدار اپنا
نہ ہی پیار تھا، نہ ہی وہ یار اپنا
نہ وہ ہمسفر نہ ہی وہ ہمراز تھا
ایک ایسا ساز جو بےآواز تھا
کئی تاروں میں جٹا تھا وہ
کئی ہاتھوں میں بٹا تھا وہ
گمان تو گمان ہے
اسے کہاں پہچان ہے
اس کی اپنی ہی سوچ ہے
اس کی اپنی ہی زبان ہے
کہتا ہے
خوابیدہ آنکھوں پہ تبسم رہتی ہے
محبت ہمیشہ مجسم رہتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







