گمان

Poet: Ali Shaikh Sagar By: Ali Shaikh Sagar, karachi

یہ تو گماں بھی نہ تھا کہ وہ بچھڑ جائے گا
سورج ایک اندھیر سی نگری میں اتر جائے گا

یہ جو ارماں سا سینے میں چھپا رکھا ہے
شام ہو گی تو جام میں جھلک جائے گا

صحرا کی تمازت میرے ہمراہ ہوئے پھرتی ہے
ایسے عالم میں بھلا کون اس بزم میں جائے گا

اندھیروں کی ٹھنی ہے اجالوں سے اب کے
اس کشمکش میں کوئی تو کشتی نکال جائے گا

تجھ کو چاہا ہے کچھ اس طرح اے صورت ماہ
تھاما جو نہ دل تو تھم جائے گا

دیکھ لینا ایک دن اپنی محبت کا کمال بھی
اشکوں سے چور زندگی سے گزر جائے گا

یہ تیری وحشتوں کا سفرایک نہ ایک دن ساگر
تجھے زندگی سے دور،دور کہیں لے جائے گا

Rate it:
Views: 680
21 Mar, 2009
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL