گماں تھا کہ اس کی محبت تمام ہوئ

Poet: واسیٓ By: عبد الرافع, Karachi

گماں تھا کہ اس کی محبت تمام ہوئ
اک آواز نے آ کر کہا حضرت تمام ہوئ

جبر ناروا سے رواجوں نے کیا جدا جدا
آنکھیں اتنا روئیں کہ بصارت تمام ہوئ

کیا ہوا آج کل تمہارے غم کم ہونے لگے ؟
مہرباں کیا تیری ہم پر عنایت تمام ہوئ ؟

دو گھڑی کو ملی تھی کوچہِ آرزو میں
آغازِ گفتگو سے پہلے ملاقات تمام ہوئ

خیر سے وداع بھی نہ کیا تجھے ہاۓ
تَذَبذُب کی فضّا میں حالت تمام ہوئ

میں آن پڑا ہوں حلقہِ وحشت کی طرف
بزمِ احباب سے مَژدہ عِشرت تمام ہوئ

یوں کب تلک اداسی کو ہوا دیتا رہوں
دل ہی بجھ گیا اب حسرت تمام ہوئ

اے خدایا ! تجھے یہ تیری دنیا مبارک
ہماری دنیا سے اب حجت تمام ہوئ

تھکا دیا ہمیں دو دن کی مسافت نے
زندگی بس کہ تیری اب مدت تمام ہوئ

Rate it:
Views: 383
30 Jul, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL