گماں تھا کہ اس کی محبت تمام ہوئ
Poet: واسیٓ By: عبد الرافع, Karachiگماں تھا کہ اس کی محبت تمام ہوئ
اک آواز نے آ کر کہا حضرت تمام ہوئ
جبر ناروا سے رواجوں نے کیا جدا جدا
آنکھیں اتنا روئیں کہ بصارت تمام ہوئ
کیا ہوا آج کل تمہارے غم کم ہونے لگے ؟
مہرباں کیا تیری ہم پر عنایت تمام ہوئ ؟
دو گھڑی کو ملی تھی کوچہِ آرزو میں
آغازِ گفتگو سے پہلے ملاقات تمام ہوئ
خیر سے وداع بھی نہ کیا تجھے ہاۓ
تَذَبذُب کی فضّا میں حالت تمام ہوئ
میں آن پڑا ہوں حلقہِ وحشت کی طرف
بزمِ احباب سے مَژدہ عِشرت تمام ہوئ
یوں کب تلک اداسی کو ہوا دیتا رہوں
دل ہی بجھ گیا اب حسرت تمام ہوئ
اے خدایا ! تجھے یہ تیری دنیا مبارک
ہماری دنیا سے اب حجت تمام ہوئ
تھکا دیا ہمیں دو دن کی مسافت نے
زندگی بس کہ تیری اب مدت تمام ہوئ
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






