گمنام
Poet: F FARZIN By: F FARZIN, delhi INDIA ہم بھی ہیں بھید میں گمنام ہیں مگر
خواہشیں نہیں ہیں ارمان ارمان ہیں مگر
چلے تھے جوش مے زندگی کی راہ میں
کچھ خواب آنکھوں میں اور دل میں چاہتیں
حوصلے بھی تھے بلند ارادوں کے ساتھ میں
سفر تو ہے اب بھی مستقل پھر سوچتے ہیں کیوں مگر
کیا یہی ہے وو دگر جس پی چلے تھے ہم مگر
جانے کیا ہمنے کیا جانے کیا لکیروں مے تھا
زندگی نے جو دیا ہمنے بھی وہی لیا
احساس کیوں ہے پھر یہ ہر پھر
ہم نے کیا حاصل کیا
جب پانا تھا یہی اس سفر
رفتہ رفتہ زندگی جب بڑھتی ہے یوں آگے
پھر کیوں کوئی اس قدر وقت کے پیچھے بھاگے
آج اگر نہ مل سکا تو غم ہے کیا
کل کی امید میں ایک نئی شروعات
کرتے ہیں ہم پھر مگر
ہم نے جو کی تھی کوششیں
رنگ وہ نہ لا سکی
کمی کہیں تو رہ گی
جو منزلیں دور ہوتی گی
ہاتھ خالی رہ گئے اس اندھیری راہ مے
روشنی کی اب بھی ہے درکار ہمیں کیوں مگر
ہم بھی ہیں بھید میں گمنام ہیں مگر
خواہشیں تو نہیں ارمان ہیں مگر
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






