گو پنکھ نہیں پِھر بھی آزاد نہِیں کرنا

Poet: رشید حسرتؔ By: رشید حسرتؔ, کوئٹہ

گو پنکھ نہیں پِھر بھی آزاد نہِیں کرنا
نا شاد رکھو مُجھ کو تُم شاد نہِیں کرنا

قد کاٹھ اگر دو گے، سمجُھوں گا تُمہیں بونا
بونا ہی رکھو مُجھ کو شمشاد نہِیں کرنا

تُم عام سی لڑکی ہو، میں عام سا لڑکا ہوں
شِیرِیںؔ نہ سمجھ بیٹھو، فرہادؔ نہِیں کرنا

ایسے نہ اُجڑ جانا دیکھو تو کہِیں تُم بھی
بستی ہی کوئی دِل کی آباد نہِیں کرنا

جو ذہن کے ریشوں میں رچ بس کے رہا اس سے
کیسے یہ کرُوں وعدہ اب یاد نہِیں کرنا

اِس شہر کے حاکِم نے یہ حُکم کیا جاری
کُچھ بھی ہو کوئی ہرگز فریاد نہِیں کرنا

بس ایک انا پائی، گھر اپنا لُٹا بیٹھے
اے بیٹِیو! اے بیٹو! اضداد نہِیں کرنا

تہذِیب بتا دے گی، تُم کتنے مُہذّب ہو
ظاہِر ہی کِسی پر تُم اسناد نہِیں کرنا

کُچھ وقت کبھی ہم نے اِک ساتھ گُزارا ہے
اب جور و جفا حسرتؔ، بے داد نہِیں کرنا

Rate it:
Views: 357
09 Sep, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL