گود میں ماضی کی جانے کب زمانے جا بسے
Poet: azharm By: Azhar, Dohaگود میں ماضی کی جانے کب زمانے جا بسے
کب حقیقت کھل گئی اور کب فسانے جا بسے
شادمانی کے سُروں میں تھے جو گاتے رات دن
یار غم کی تان سُر میں سب ترانے جا بسے
شہر میں ہر سو نظر آتے ہیں چہرے نِت نئے
دور پردیسوں میں جب سے سب پرانے جا بسے
یار کی بستی میں لٹنا تھا یقینی، پھر بھی ہم
اپنا ذاد عشق لے کر واں لٹانے جا بسے
کھیل تو بختوں کا ہے، پر ہم کہ ٹہرے باغباں
کارزار خشت میں بھی گُل اُگانے جا بسے
خواب پر بھی چھا گی وحشت، ڈرا دیتا ہے اب
خوف سے اظہر کہیں سپنے سہانے جا بسے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






