گوناں گون کی یہ دنیا اور تم ہر رنگ کے قائل
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiگوناں گون کی یہ دنیا اور تم ہر رنگ کے قائل
افسردہ ہماری سوچیں جیسے ہر دہلیز کی سائل
وہ آدھے کھلے دروازے آخر کس کے منتظر ہیں
جہاں سوتے بجا کنگناں اور اٹھتے بجی پایل
ادنیٰ ہیں تاسف، جس کا نہ وید نہ مرہم
ایک کل ہوئا سنگسار ایک آج ہوئا گھایل
خلوت میں کہیں اصلاح بھلا کہاں ہوتا ہے
جس کے ہر افراط میں یوں افسردگی رہی مایل
ہر گلستاں میں مجھ سے ہی رونق ہے
یہ تو کوک کوک کے کہہ رہی تھی کوئل
زندگی کو ترغیب دو بھی اس طرح سنتوش
کہ کتنی ہیں خواہشیں اور کتنے ہیں وسائل
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






