گُزر چلی ہے ترا انتظار کرتے ہُوئے

Poet: AMJID ISLAM AMJID By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

شمارِ گردش لیل و نہار کرتے ہُوئے
گُزر چلی ہے ترا انتظار کرتے ہُوئے

خُدا گواہ ، وہ آسُودگی نہیں پائی
تمہارے بعد کسی سے بھی پیار کرتے ہوئے

تمام اہلِ سَفر ایک سے نہیں ہوتے
کُھلا یہ وقت کے دریا کو پار کرتے ہوئے

عجب نہیں کبھی گُزرے ترے خیال کی رَو
مِرے گمان کے طائر شکار کرتے ہُوئے

کہیں چُھپائے مرے سامنے کے سب منظر
مجھے ، مجھی پہ کبھی آشکار کرتے ہُوئے

کِسے خبر ہے کہ اہلِ چمن پہ کیا گزری
خزاں کی شام کو صبحِ بہار کرتے ہُوئے

ہَوس کی اور لُغت ہے ‘ وفا کی اورزباں
یہ راز ہم پہ کُھلا ، انتظار کرتے ہُوئے

عجیب شے ہے محبت کہ شاد رہتی ہے
تباہ ہوتے ہوئے اور غبار کرتے ہُوئے

ہمارے بس میں کوئی فیصلہ تھا کب امجد
جُنوں کے چُنتے ، وفا اختیار کرتے ہُوئے

Rate it:
Views: 498
18 Aug, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL