گُزرے کل سا لگتا ہو جب آنے والا کل

Poet: Amjad Islam Amjad By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

گُزرے کل سا لگتا ہو جب آنے والا کل
ایسے حال میں رہنے سے تو بہتر ہے کہ چل

کرتی ہیں ہر شام یہ بِنتی ، آنکھیں ریت بھری
روشن ہو اے امن کے تارے، ظُلم کے سُورج ، ڈھل

اپنا مطلب کھو دیتی ہے دِل میں رکھی بات
رونا ہے تو کُھل کے رو اور جلنا ہو تو ، جل

لمحوں کی پہچان یہی ہے ، اپڑتے جاتے ہیں
آنکھوں کی دہلیز پہ کیسے ٹھہر گیا ، وہ پَل !

عشق کے رستے لگ جائیں تو لوگ بھلے چنگے
ہوتے ہوتے ہو جاتے ہیں ، دیوانے ، پاگل !

موسم کی سازش ہے یا پھر مٹی بانجھ ہوئی !
پیڑ زیادہ ہوتے جائیں ، گھٹتا جائے پھل!

جُھکی جُھکی آنکھوں کے اُوپر بوجھل پلکیں تھیں
لیکن کیسے چُھپ سکتا تھا ! کاجل ہے کاجل !

زر داور کے دستِ ستم میں دونوں گِروی ہیں
مزدوروں کا خُون پسینہ ، دہقانوں کا ہَل !

بُجھتے تاروں کی جِھلمل میں اوس لرزتی ہے
امجد دُنیا جاگ رہی ہے تُو بھی آنکھیں مَل

Rate it:
Views: 399
14 Nov, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL