گھر اپنا جلا نکلے
Poet: Sajid Awan By: Sajid Manzoor Awan, Islamabadکبھی اِس رہ پہ آنکلے کبھی اُس رہ پہ آنکلے
کیسی تھی تکمیل اپنی کہ گھر اپنا جلا نکلے
خطا ایسی ہو کے دل اب بھی تھامے بیٹھے ہیں
کن منزلوں کا سوچا تھا کن راہوں پر جا نکلے
دور دور تک صحرا ہے اور ہیں ہم
صِلے میں ہم یہ محبت کے کیسی منزل پا نکلے
دیکھ دشتِ تنہائی میں یوں ہی بھٹکتے بھٹکتے
سرِ راہ کیسے ہمسفر تنہائی کو بنا نکلے
نادانی تم بھی تو زرا دیکھو دلِ نادان کی
امید پھولوں کی دوستی کانٹوں سے لگا نکلے
کرے محبت نہ ہرگز کسی دلنشین سے کوئی
حال ایسا ہی ہوگیا کہ دل سے یہ ہی صدا نکلے
جفا ایسی کون جانے زخم ایسا کون مانے
وہی جانے درد ساجد حصے جس کے سزا نکلے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






