گھر اپنا جلا کردیکھیں گے
Poet: m.asghar mirpuri By: m.asghar mirpuri, birminghamہم پچھتا رہےہیں اندھیروں سےدوستی کرکے
گھر اپنا جلا کر دیکھیں گےہم روشنی کر کے
تمہارے گلشن کے پھول کلیاں تمیں مبارک
ہم خوش ہیں کانٹوں کہ درمیاں بسرزندگی کرکے
ہم بڑی بےتابی سے تمہاری راہ تکتے رہتے ہیں
تمیں کیا ملتاہے ہم سےاس طرح بےرخی کرکے
تم سےجو بھی ملا ہنس کر جھولی پا لیا
اب دیکھیں گےکسی پتھر سے دوستی کرکے
تیری محبت کےسہارےجیے جارہا ہے اصغر
تم چلے نہ جانا ویران میری زندگی کرکے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






